TOEFL iBT کے ہر حصے میں غلطی کیسے پہچانیں
اگر انگریزی عبارت سمجھ کر بھی آپ غلط جواب منتخب کرتے ہیں تو دیکھیں کہ سوال کس بات کا ثبوت مانگتا ہے۔ یہی عادت سننے میں بھی کام آتی ہے۔ لکھنے اور بولنے میں اپنی بات کسی دوسرے کی نظر سے جانچیں۔ اسے معلوم ہونا چاہیے کہ آپ کس سوال کا جواب دے رہے ہیں۔
آخری اپ ڈیٹ:
فرض کریں آپ کو ایک اطلاع میں واپسی کی تاریخ مل گئی۔ سوال البتہ یہ ہے کہ کتاب کہاں جمع کرانی ہے۔ عبارت یاد رہ جانے کے باوجود جواب چوک سکتا ہے۔ اپنی کاپی میں سوال کی مانگ اور جواب کا ثبوت ساتھ لکھنے سے صاف پتا چلے گا کہ کہاں توجہ بدلنی تھی۔
پڑھتے وقت جواب کی بنیاد تلاش کریں
ETS کی فہرست کے مطابق پڑھنے میں ادھورے الفاظ مکمل کرنے، روزمرہ کی تحریر سمجھنے اور تعلیمی عبارت پڑھنے کے کام ہوتے ہیں۔ پہلے کام میں صرف ہجوں پر بھروسا کرنے کے بجائے دیکھیں کہ یہاں عمل بیان ہو رہا ہے یا کسی چیز کی صفت۔ اپنا مختصر سوال بنائیں، “The new rule will aff___ evening classes.” یہاں affect کا مطلب شام کی کلاسوں پر اثر پڑنا ہے۔ afford کے ابتدائی حروف بھی ملتے ہیں مگر جملے کا مطلب بگڑ جاتا ہے۔ روزمرہ کی اطلاع میں پڑھنے والے اور پیغام کے مقصد کو پہچانیں۔ تعلیمی پیراگراف میں مثال پر انگلی رکھ کر پوچھیں کہ مصنف اس سے کون سی بات سمجھا رہا ہے۔ اگر جواب میں صرف مثال ہی دہرائی ہے تو اصل دعوے کی طرف لوٹیں۔
سنتے وقت موضوع کے ساتھ ارادہ بھی سنیں
TOEFL iBT کے لیے اعلان اور گفتگو کی مشق میں ایک ہی طرح کے نوٹ لینے سے اہم فرق چھپ سکتا ہے۔ ETS سننے کے کاموں میں موزوں جواب چننا، گفتگو، اعلان اور تعلیمی موضوع پر بات سننا شامل کرتا ہے۔ اگر کوئی پوچھے کہ کیا کھڑکی کھول سکتے ہیں تو جواب میں کھڑکی کی جگہ بتانا متعلقہ لفظ دہرانا ہے، اجازت کے سوال کا جواب دینا نہیں۔ اعلان میں کارروائی تلاش کریں، اور کسی علمی گفتگو میں خیال کے بعد وہ مثال لکھیں جو اسے واضح کرتی ہے۔
لکھنے والے کی نیت پڑھنے والے تک پہنچائیں
ETS کے لکھنے والے حصے میں الفاظ سے جملہ بنانا، ای میل لکھنا اور تعلیمی مباحثے میں حصہ لینا شامل ہے۔ ان ٹکڑوں کو جوڑ کر دیکھیں، “opens / what time / Do you know / the office”۔ درست سوال “Do you know what time the office opens?” ہے۔ اندرونی فقرے میں پہلے دفتر کا ذکر آتا ہے، پھر فعل۔ مشق میں فرض کریں کہ آپ کو جمع کرائے گئے مضمون کی رسید درکار ہے۔ پہلے وصول کنندہ کو مضمون پہچنوانے کے لیے مناسب تفصیل دیں، پھر رسید بھیجنے کی درخواست کریں۔ بحث میں کسی دوسرے طالب علم کی بات نقل کرنے کے بجائے اس پر اپنی رائے اور وجہ لکھیں۔ مثلاً تعطیل میں کتب خانہ کھولنے کی بحث میں “I support the idea” سے بات ادھوری رہتی ہے۔ “Students who work on weekdays could collect books on Saturday” لکھنے سے ایک عملی وجہ سامنے آتی ہے۔
بولنے میں کام بدلنے کے ساتھ طریقہ بدلیں
ETS کی وضاحت کے مطابق آپ سنا ہوا جملہ دہراتے بھی ہیں اور انٹرویو کے سوال کا جواب بھی دیتے ہیں۔ جملہ دہراتے ہوئے مفہوم اپنے لفظوں میں بیان کرنے سے اصل الفاظ چھوٹ جاتے ہیں۔ مشق کی ریکارڈنگ کو سن کر چھوٹے الفاظ اور جمع کے آخر پر توجہ دیں۔ انٹرویو میں اپنی مثال منتخب کریں۔ اگر سوال کسی فیصلے کی وجہ سے متعلق ہے تو فیصلے کا پس منظر اتنا ہی دیں کہ آپ کی وجہ سمجھ آ سکے۔
نمونہ منصوبہ
مشق کے لیے 20 منٹ میں کسی اعلان اور کسی مختصر تحریر سے مطلوبہ کارروائی الگ لکھیں۔ اگلی نشست میں اسی موضوع پر ای میل لکھیں اور پھر انٹرویو کا مختلف سوال لے کر جواب ریکارڈ کریں۔ اپنے مشقی جوابوں کا جائزہ لیتے ہوئے غلطی کے ساتھ اس کا سبب بھی لکھیں۔ مثلاً اگر آپ نے سوال غلط سنا ہے تو اگلی نشست میں پوچھنے کا انداز پہچاننے پر وقت دیں۔ اگر سوال ٹھیک سمجھا لیکن مثال ادھوری چھوڑ دی تو مقررہ موضوع پر بات پوری کرنے کی مشق کریں۔
ExamLuma آپ کی تیاری میں کیسے مدد کرتا ہے
ExamLuma میں اپنے اسٹڈی پلان کو منظم رکھیں اور آسانی سے فالو کریں۔ ↗
روزانہ پڑھائی کا ہدف طے کریں اور اپنی پیش رفت پر نظر رکھیں۔ ↗
مکمل کیے گئے اسٹڈی سیشنز کا ریکارڈ محفوظ کریں۔ ↗

عام پوچھے جانے والے سوالات
لفظ پورا کرتے ہوئے کون سی بات دیکھوں؟
نظر آنے والے حروف کے ساتھ یہ دیکھیں کہ جملے کو کس طرح کا لفظ چاہیے۔ جو لفظ آپ نے چنا ہے اسے لگا کر پورا جملہ پڑھیں اور معنی کو اردگرد کی عبارت سے ملائیں۔
ای میل کا اختتام کیسے جانچوں؟
پڑھنے والے کی جگہ خود کو رکھیں۔ اگر آپ کسی دستاویز کی نقل مانگ رہے ہیں تو آخر تک یہ واضح ہونا چاہیے کہ کون سی دستاویز درکار ہے اور آپ اس کا کیا کرنا چاہتے ہیں۔
جملہ دہرانے اور انٹرویو کے جواب میں کیا فرق رکھوں؟
جملہ دہراتے ہوئے اصل الفاظ اور ان کی ترتیب پر توجہ دیں۔ انٹرویو کے سوال کے لیے اپنی بات منتخب کریں اور اس کی وجہ یا کوئی موزوں مثال ساتھ دیں۔
حوالہ جات

